ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پہلی بار دورۂ جموں پر امیت شاہ کے بڑے بڑے بول ، علیحدگی کا ٹھیکرا کانگریس کے سر پھوڑا،حلیف حکومت کے باوجودمفتی سرکار کوبتایا ناکام

پہلی بار دورۂ جموں پر امیت شاہ کے بڑے بڑے بول ، علیحدگی کا ٹھیکرا کانگریس کے سر پھوڑا،حلیف حکومت کے باوجودمفتی سرکار کوبتایا ناکام

Sat, 23 Jun 2018 23:45:28    S.O. News Service

جموں23جون( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) آج جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی برسی پر بی جے پی نے جموں میں بڑی ریلی کی جسے امت شاہ نے خطاب کیا۔ امت شاہ نے کہا کہ کانگریس بتائے کہ ان کی پارٹی اور لشکر میں کیا تعلق ہے کیونکہ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کا بیان آتے ہی لشکر نے اس کی حمایت کی تھی ۔

کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کے بیان کو لشکر طیبہ کی حمایت کرتا ہے، کیا راہل گاندھی بتائیں گے کہ کانگریس اور لشکر کی یہ فری کوینسی میچ کس طرح کر رہا ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ راہل گاندھی میں اگر غیرت ہے تو وہ اپنے رہنماؤں سے سوال کریں ۔ اپنے دو لیڈروں کے بیان پر راہل گاندھی معافی مانگے، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ معافی نہیں مانیں گے۔ کانگریس جتنا بھی سازش کر لے کشمیر بھارت سے کبھی الگ نہیں ہو گا، یہ ہمارا عہد ہے۔ بی جے پی نے حمایت واپس لی اور حکومت گر گئی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اقتدار نہیں جموں و کشمیر کی ترقی کی فکر ہے۔ کشمیر میں حالت ایسے ہوئے کہ امن بحال نہیں ہو پایا اور نوجوان اورنگ زیب اور صحافی شجاعت بخاری کا قتل کیا گیا، ترقی کا توازن محبوبہ حکومت میں بگڑ گیا اور جموں و لداخ سے پی ڈی پی حکومت نے امتیازی سلوک کیا ۔

امت شاہ نے کہا کہ 70 سالوں میں جو نہیں ہوا وہ مودی حکومت کے راج میں جموں اور لداخ کے لئے کیا گیا۔اگرچہ جموں کے ایمس کا کام پی ڈی پی حکومت نے التوا میں ڈال دیا ۔ اگر ہم جموں اور لداخ کی ترقی کا کام کیوں نہیں ہوا اس کا جواب پی ڈی پی سے مانگتے ہیں تو کیا یہ غلط ہے۔ ریاست کی ترقی کے بارے میں محبوبہ حکومت سے سوال مانگتے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟ واضح ہو کہ تین سال بی جے پی نے ایک بے میل اتحادکے ذریعہ پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت کا حصہ رہی ہے ۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ جموں کو اسمارٹ سٹی قرار دیا لیکن اس کا ڈی پی آر آج تک نہیں بنا۔ بی جے پی چاہتی تھی کہ جموں و کشمیر اور لداخ کا یکساں ترقی ہو لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری حکومت کی زیرو ٹلریس کی پالیسی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح دہلی، بنگال، بنگلور، گجرات کا نوجوان اپنے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور اس احساس کرتا تھا جموں و کشمیر کا نوجوان بھی ایسا کر سکے۔

ریاست میں اب گورنر راج لگا ہے، پاک پناہ گزینوں کے لئے دی گئی 15 ہزار کروڑ خرچ نہیں ہوئے۔ ہم جلد سے جلد پاک پناہ گزینوں تک معاوضے کی رقم پہنچائیں گے ۔ اس موقع پر امت شاہ اگلے سال ہونے والے 2019 لوک سبھا انتخابات کے لئے پارٹی کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی امت شاہ اگلے انتخابات سے منسلک مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے پارٹی کی الیکشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے ۔بی جے پی کے پی ڈی پی قیادت مخلوط حکومت سے حمایت واپس لینے کے بعد امیت شاہ کا یہ جموں کشمیر کا پہلا دورہ ہے۔ ریاست میں فی الحال گورنر راج نافذ ہے۔ اس دورے کو لے کر بی جے پی کارکنوں میں جوش ہے لیکن ساتھ ہی اس دورے کی ٹائمنگ کو لے کر سوال کھڑے ہو رہے ہیں، کیونکہ امت شاہ کا یہ دورہ بی جے پی کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی برسی والے دن ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر شیاما پرساد نے جموں کشمیر کے بھارت میں مکمل انضمام کے لئے سری نگر کی ایک جیل میں جان گنوائی تھی۔

اب ان کی برسی کے موقع پر امت شاہ کا جموں آنے کا مطلب صاف ہے کہ اب بی جے پی اپنے کور مسائل پر واپس لوٹے گی۔ بی جے پی یہ مان رہی ہے کہ امت شاہ کا یہ دورہ نہ صرف پارٹی کارکنوں میں نئی جان پھونکے گا؛ بلکہ اسی دورے کے ساتھ ریاست میں لوک سبھا اور ریاست کے انتخابی تیاری شروع ہو جائے گی۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی پیدائش 6 جولائی 1901 میں کولکاتہ میں ہوئی تھی۔ وہ بھارتیہ جن سنگھ (اب بی جے پی) کے بانی تھے۔ انہوں نے سال 1929 میں سیاست کی شروعات کی تھی۔ وہ بنگال اسمبلی میں منتخب ہوئے تھے۔ شیاما پرساد مکھرجی سال 1947 میں پنڈت جواہر لال نہرو کی کابینہ میں بھی شامل ہوئے تھے۔تاہم تین سال بعد سال 1950 میں انہوں نے کابینہ سے استعفی دے دیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے سال 1951 میں آر ایس ایس کے گولوالکر کے کہنے پر بھارتیہ جن سنگھ قائم کی تھی۔ سال 1952 کے انتخابات میں جن سنگھ کے تین رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔ شیاما پرساد مکھرجی بھارت کی سا لمیت اور کشمیر کا ہندوستان میں انضمام کے حامی تھے۔ مکھرجی جموں و کشمیر میں 370 ہٹانے کی مخالفت کرتے رہے۔ 


Share: